ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفتر میں اے بی وی پی کی توڑ پھوڑ پولیس کارروائی میں چار کارکن زخمی،احتجاج جاری رکھنے کارکنوں کا اعلان

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفتر میں اے بی وی پی کی توڑ پھوڑ پولیس کارروائی میں چار کارکن زخمی،احتجاج جاری رکھنے کارکنوں کا اعلان

Sat, 20 Aug 2016 03:04:35    S.O. News Service

بنگلور، 19 اگست (یو این آئی/ایس او نیوز) شہر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے دفتر میں آج زبردستی گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طلبہ یونٹ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے چار طلبہ پولس کی کارروائی میں زخمی ہو گئے جبکہ تمام 40 طالب علموں کو گرفتار کر لیا گیا۔اے بی وی پی کے کارکن غیر سرکاری تنظیم کے دفتر کو بند کرنے اور گزشتہ 13 اگست کو یونائٹیڈ تھیولوجیکل سوسائٹی میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران فوج کے خلاف مبینہ نعرے بازی کرنے والے افراد کو گرفتار کرنے کے مطالبے پر مظاہرہ کر رہے تھے۔پولس نے ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس واقعہ میں ملوث لوگوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔پولس کی سست کارروائی سے غیر مطمئن اے بی وی پی کے کئی کارکنوں نے اپنے مظاہرے کو تیز کر دیا اور آج ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے دفتر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرنے پر پولس نے ان طالب علموں پر لاٹھی چارج کیا اور متعدد طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔ریاست کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے نامہ نگاروں سے کہا کہ پولس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جب تک تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی تب تک گرفتار لوگوں پر کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہاکہ "ہم لوگ متنازعہ پروگرام کے منتظمین سے تفصیلی معلومات جمع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی نے بھی ہندوستانی فوج کے خلاف نعرے بازی نہیں کی ہے۔ اس سلسلے میں تفصیلی تحقیقات کی جائے گی اور اس کے بعد ہی کارروائی کی جائے گی۔پچھلے دوتین دنوں سے راج بھون روڈ، میسور بینک سرکل وغیرہ میں احتجاج میں مصروف اے بی وی پی کے کارکنوں نے آج اچانک ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفتر پر دھاوا بولا۔ سیکورٹی تقاضوں کو دیکھتے ہوئے جب ایمنسٹی کے کارکنوں نے ان احتجاجیوں کی ویڈیو گرافی کرنی شروع کی تو اس وقت ان کارکنوں نے ایمنسٹی کے دفتر میں گھسنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوگئے۔ایمنسٹی کے دفتر پر دھاوا بولنے اے بی وی پی کارکنوں کی کوشش کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری طور پر وہاں بیاریکیٹ کھڑے کردئے، جس پر یہ کارکن اور مشتعل ہوگئے۔بیاریکیٹ کو گراکر یہ لوگ اندر داخل ہونے کی کوشش میں لگ گئے۔کچھ طالبات نے پولیس والوں کے خلاف نعرہ بازی شروع کردی۔ اس دھکا پیل میں 20 سے زائد طلبا زخمی ہوئے، وینا نامی ایک طالبہ کے سرپر بیاریکیٹ کی سلاخ سے چوٹ لگ گئی، جس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ پولیس نے بارہا احتجاجیوں سے گذارش کی کہ وہ اپنا مظاہرہ واپس لے لیں، لیکن انہوں نے ایک نہیں سنی۔ صورتحال کو بے قابو ہوتے دیکھ کر پولیس نے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کیا۔ اے بی وی پی کے سکریٹری ونئے بدرے نے کہاکہ پر امن احتجاج کرنے والے طلبا پر پولیس نے لاٹھی چارج کرکے انہیں کچلنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کی طرف سے چاہے جتنا ظلم کرلیا جائے طلبا کا احتجاج بند نہیں ہوگا۔ فوج کے خلاف نعرہ بازی کرنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ پچھلے پانچ دنوں سے کیاجارہاہے۔ لیکن اب تک کسی غدار کو گرفتار نہیں کیاگیا ہے، حکومت بھی ایمنسٹی پر پابندی لگانے کا کوئی قدم نہیں اٹھارہی ہے۔ 
 


Share: